اسحاق ڈار

قرضوں کی ری شیڈولنگ کیلئے پیرس کلب نہیں جائیں گے، اسحق ڈار

اسلام آباد (گلف آن لائن)وزیرخزانہ سینیٹرمحمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لئے پیرس کلب نہیں جائیں گے، بانڈز کی ادائیگی بروقت کی جائے گی ، آئی ایم ایف کے معاہدے کی پاسداری کریں گے، 50ہزار ڈالر تک کی ایل سیز کی ادائیگیاں کرنے جارہے ہیں جس کیلئے سٹیٹ بنک نے ڈیٹا فراہم کردیا ہے، اتحادی حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے، سابقہ حکومت کی وجہ سے ملک مسائل کا شکار ہوا۔ گزشتہ ر وز میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے جائزہ اجلاس کیلئے میری ٹیم روانہ ہوچکی ہے، میں نے شرکت کرنی ہے اور روانگی سے قبل ان چار چیزوں کی وضاحت ضروری تھی تاکہ ملکی اور بیرونی سطح پر ملکی معیشت کے حوالے سے اہم فیصلوں سے آگاہ کیا جاسکے۔گزشتہ حکومت کی وجہ سے معاشی مسائل پیدا ہوئے اور ایل سی کی ادائیگیاں التوا کا شکار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میں نے گورنر سٹیٹ بنک سے کہا کہ ایل سی کے حوالے سے مختلف حجم کی ایل سی کے اعدادوشمار اکٹھے کرکے ڈیٹا فراہم کردیں جس پر سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ڈیٹا فراہم کردیا ہے۔

50 ہزار ڈالر تک جتنی زیرالتوا ایل سی کی ادائیگیاں تھیں وہ ادا کردی جائیں گی جس سے 50 فیصد ادائیگیوں کے مسائل حل ہوجائیں گے اور کاروباری برادری کے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے عالمی درجہ بندی کے اداروں کے حوالے سے کہا کہ زوم اجلاس کے ذریعے ہم نے انہیں درست اعدادوشمار فراہم کئے ان کی درجہ بندی محدود اعدادوشمار پرمبنی تھے جسے درست ریکارڈ فراہم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی پانچ درآمدی صنعتوں کے مسائل پر تھی، ان مسائل کو حل کردیا گیا ہے جس سے برآمدات کو فروغ ملے گا۔ صنعتی شعبہ کی توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جلد جاری کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قرضوں کی ری شیڈولنگ کیلئے پیرس کلب نہیں جائے گا، آئی ایم ایف سے معاہدے کی پاسداری کریں گے، عالمی ادارے بھی ہمارے فیصلوں کی تائید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے،بانڈزکی دسمبر میں ادائیگی میچور ہورہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ ادائیگی بروقت کی جائے گی۔ گزشتہ حکومت نے ملک کو معاشی مسائل میں دھکیلا تاہم ہم ماضی میں جو بھی غلط فیصلے ہوئے ان کے حل کیلئے جامع حکمت عملی کے ذریعے اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں،پاکستان کے اندر اور باہر یہ وضاحت ضروری ہے کہ تمام فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے گا اورقرضے ری شیڈول کیلئے پیرس کلب نہیں جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں