جاوید لطیف

فیض حمید کی منصوبہ بندی میں اداروں کے سربراہان بھی شامل تھے، جاوید لطیف

لاہور(نمائندہ خصوصی ) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ فیض حمید جو منصوبہ بندی کررہے تھے اس وقت اداروں کے سربراہان بھی شامل تھے، آئین و قانون کے مطابق سزا دینی ہے تو پھر مکمل انصاف کرنا پڑے گا۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ جو سازش کا منصوبہ بنایا گیا کیا فیض حمید یہ سب اکیلے کرسکتے تھے؟، فیض حمید جو منصوبہ بندی کررہے تھے اس وقت اداروں کے سربراہان بھی شامل تھے، منصوبہ سازوں کے بینفشری بھی کٹہرے میں آنے چاہئیں۔

جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہیں تو کوئی حرج نہیں ہونی چاہیے، مگر مذاکرات کے ذریعے ایسا نہیں ہوناچاہیے کہ ملزمان یا مجرموں کو رہا کراسکیں اور اچھی بات ہے کہ کوئی ان کی شرائط نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کے مطابق سزا دینی ہے تو پھر مکمل انصاف کرنا پڑے گا، سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان، مذاکرات کاجھانسہ دینا یہ فیض حمید کو بچانے کا منصوبہ تھا، جو بغیر کسی جرم کے قید ہیں ان لوگوں کو چھوڑنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی پہلے طاقتور حلقوں سے ڈیل کرنا چاہتی تھی، میرا نہیں خیال کہ حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ این آر او دے سکے جہاں یہ لوگ پی ٹی آئی کو لے گئے ہیں میرا نہیں خیال انہیں کوئی این آر او دے گا۔ جاوید لطیف نے مزید کہا کہ غیر ملکی آقاﺅں کا ایجنڈا پی ٹی آئی لے کر آئی تھی، پی ٹی آئی نے 6 ہزار دہشتگردوں کو چھوڑا، یہ ملک کے مفاد میں نہیں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں